نئے آنے والوں کے لیے تندرستی کے موثر طریقے صحت مند زندگی کی جانب

جب آپ ورزش شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ آپ اُن لوگوں کی نقل کرتے ہیں جو پانچ سال سے جِم جا رہے ہیں۔ میں نے شروعات میں یہی کیا تھا، اور نتیجہ؟ دو ہفتوں میں گھٹنوں میں درد، حوصلہ ختم، اور یہ یقین کہ شاید فٹنس میرے بس کی بات نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صحت مند جسم بنانا کسی سپرہیرو بننے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سمجھدار نظام اپنانے کا ہے جو آپ کے روزمرہ معمولات میں فطری طور پر ضم ہو جائے۔ یہ مضمون اُن لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ابھی تک جِم کی رکنیت نہیں لی، جن کے پاس مہنگے ٹرینر رکھنے کے پیسے نہیں، اور جو سمجھنا چاہتے ہیں کہ اپنے جسم کو تبدیل کرنے کا عملی اور پائیدار طریقہ کیا ہے۔

آپ کا جسم کوئی مشین نہیں بلکہ ایک نامیاتی نظام ہے

تندرستی کے شعبے میں سب سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ آپ کے جسم کو ایک مشین سمجھا جائے جس میں ایندھن ڈالا اور کارکردگی حاصل کی۔ مگر جسم انسانی ایک پیچیدہ نامیاتی نظام ہے جو آپ کی نیند، تناؤ، ماضی کی عادات اور یہاں تک کہ آپ کے جذبات سے متاثر ہوتا ہے۔ میں نے پہلے سال یہ سمجھا کہ روزانہ دو گھنٹے تیز دوڑنا ہی کامیابی ہے، مگر وزن بڑھتا گیا کیونکہ جسم تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی زیادتی سے چربی جمع کر رہا تھا۔

اگر آپ نے زندگی میں کبھی باقاعدگی سے ورزش نہیں کی تو پہلا قدم یہ ہے کہ اپنی بنیادی حرکت کی صلاحیت کو بحال کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ بغیر درد کے بیٹھ سکیں، اٹھ سکیں، سیڑھیاں چڑھ سکیں اور زمین پر بیٹھ کر اٹھ سکیں۔ میں نے اپنے تیسویں برس میں یہ جان کر حیرت محسوس کی کہ میں زمین پر سے اٹھنے کے لیے ہاتھ کا سہارا لیتا تھا جبکہ میرے دادا اسّی سال کی عمر میں اکیلے اٹھ جاتے تھے۔ یہی فطری حرکت ہے جو ہم نے شہری زندگی میں کھو دی ہے۔

بنیادی حرکت کی بحالی کے لیے آپ کو مہنگے آلات کی ضرورت نہیں۔ صبح اٹھ کر دس منٹ اپنے کمرے میں چلنا، دیوار کے سہارے دھیرے سے اسکواٹ کی شکل میں بیٹھنے کی کوشش کرنا، اور بازوؤں کو گھمانا کافی ہے۔ یہ بور لگتا ہے مگر یہی بنیاد ہے جس پر بعد میں طاقتور اور لچکدار جسم بنتا ہے۔

غذا کو دشمن سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے

ہم سب نے کوئی نہ کوئی رجیم ضرور آزمائی ہے۔ کیٹو، انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ، لو کارب، صرف سلاد۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ چھوڑنے کے گرد گھومتے ہیں نہ کہ سمجھ کے ساتھ کھانے کے۔ میں نے دو سال تک مکمل گندم چھوڑی، کاربوہائیڈریٹ کو زہر سمجھا، مگر جب طویل فاصلے پر دوڑنے کی کوشش کی تو بدن میں توانائی ہی نہیں رہتی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ کو ایک متوازن غذا چاہیے جو آپ کی سرگرمی کی سطح سے ہم آہنگ ہو۔ اگر آپ دفتر میں کرسی پر بیٹھ کر آٹھ گھنٹے گزارتے ہیں تو آپ کو مزدوری کرنے والے کی طرح بھاری کھانوں کی ضرورت نہیں۔ مگر اگر آپ تین دن جِم میں وزن اٹھاتے ہیں تو پروٹین کی مقدار بڑھانی لازمی ہے۔ یہ آسان حساب ہے جسے لوگ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

پروٹین کی حقیقی مقدار جو آپ کو درکار ہے

بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اُنہیں روزانہ کتنا پروٹین چاہیے۔ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ صرف باڈی بلڈرز کو پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ حقیقت میں آپ کے جسم کا ہر خلیہ پروٹین سے بنا ہے اور جب آپ ورزش کرتے ہیں تو پٹھوں کی مرمت کے لیے امائنو ایسڈز درکار ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اصول یہ ہے کہ آپ کے وزن کے ہر کلوگرام کے لیے تقریباً ایک سے ڈیڑھ گرام پروٹین لیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ کا وزن ستر کلوگرام ہے تو آپ کو روزانہ ستر سے ایک سو گرام پروٹین درکار ہے۔ یہ دو انڈے، ایک کٹوری دال، دوپہر کے کھانے میں چکن یا مچھلی کا ایک ٹکڑا اور شام کو دہی سے مل جاتا ہے۔ کوئی جادو نہیں، صرف منصوبہ بندی۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ آپ یہ باقاعدگی سے حاصل کریں۔

کاربوہائیڈریٹ دشمن نہیں بلکہ توانائی کا ذریعہ ہے

بہت سے رجیموں نے کاربوہائیڈریٹ کو برا بنا دیا ہے مگر آپ کا دماغ اور پٹھے دونوں گلوکوز سے چلتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹ کا مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ صرف سفید چاول، میدہ اور چینی والی چیزیں کھاتے ہیں۔ یہ تیزی سے خون میں شوگر بڑھاتے اور گراتے ہیں جس سے آپ تھکاوٹ اور بھوک محسوس کرتے ہیں۔

اس کے برعکس براؤن چاول، جَو، جوار، دلیا، شکرقندی اور سبزیاں آہستہ سے توانائی فراہم کرتی ہیں۔ میں نے جب اپنی صبح کی چائے میں چینی کی جگہ تھوڑا سا شہد استعمال کرنا شروع کیا اور دوپہر کا کھانا مکمل اناج پر مبنی بنایا تو دوپہر کی تھکن غائب ہو گئی۔ یہ چھوٹی تبدیلیاں بہت بڑا اثر رکھتی ہیں۔

ورزش کا مطلب صرف جِم نہیں ہے بلکہ حرکت ہے

میں نے بیس سال کی عمر میں سوچا کہ اگر جِم نہیں جاتا تو فٹ نہیں ہو سکتا۔ میں نے مہنگی رکنیت خریدی، بھاری وزن اٹھانے کی کوشش کی اور دو ماہ بعد چھوڑ دیا۔ پھر مجھے ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو پینسٹھ سال کا تھا مگر پچیس سال کے جوان کی طرح چلتا تھا۔ اُس کا راز؟ وہ دن میں تین بار پندرہ منٹ کی واک کرتا تھا، ہر روز صبح ہلکی اسٹریچنگ کرتا تھا اور گھر میں اپنے وزن سے ورزش کرتا تھا۔

آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانی جسم مسلسل بیٹھے رہنے کے لیے نہیں بنا۔ دس ہزار سال پہلے ہم شکار کرتے تھے، جمع کرتے تھے، دور تک چلتے تھے۔ آج ہم کار سے دفتر جاتے ہیں، لفٹ سے اوپر پہنچتے ہیں اور کرسی پر جم جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی صرف چند دہائیوں میں ہوئی اور ہمارا جسم اِس کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی لیے دوران خون کی بیماریاں، ذیابیطس اور موٹاپا عام ہو گئے ہیں۔

حل یہ ہے کہ آپ اپنے دن میں فطری حرکت شامل کریں۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ تبدیلیاں کیں اور تین ماہ میں وزن کم ہوا، نیند بہتر ہوئی اور موڈ بھی بہتر ہوا۔ اِس کے لیے مجھے کوئی مہنگا سامان نہیں خریدنا پڑا۔

  • صبح بستر سے اترنے کے فوراً بعد پانچ منٹ ہلکی اسٹریچنگ کریں تاکہ جسم جاگ جائے۔
  • دوپہر کے کھانے کے بعد پندرہ منٹ کی ہلکی چہل قدمی کریں یہ ہاضمہ بھی بہتر کرتی ہے اور خون میں شکر بھی کنٹرول رہتی ہے۔
  • لفٹ کی جگہ سیڑھیاں استعمال کریں خاص طور پر اگر منزل تیسری سے نیچے ہو۔
  • ہفتے میں تین دن بیس منٹ ایسی ورزش کریں جس میں آپ کی دھڑکن بڑھ جائے جیسے تیز چلنا، سائیکل چلانا یا گھر میں رسی کودنا۔
  • ہر رات سونے سے پہلے پانچ منٹ گہری سانس لینے کی مشق کریں یہ تناؤ کم کرتی ہے اور نیند کا معیار بہتر کرتی ہے۔
  • ہفتے کے آخر میں کم از کم ایک دن اپنے گھر کے کام خود کریں جیسے صفائی یا باغبانی یہ بھی جسمانی سرگرمی ہے۔

یہ چھوٹی چھوٹی عادات جب مل جاتی ہیں تو آپ ایک دن میں تقریباً چالیس سے پچاس منٹ فعال رہتے ہیں۔ یہ کسی بھی مہنگے جِم پروگرام سے زیادہ پائیدار ہے کیونکہ یہ آپ کی زندگی میں سمو جاتی ہیں۔

وزن کم کرنے سے زیادہ اہم طاقت بنانا ہے

فٹنس کی دنیا میں سب سے غلط مفروضہ یہ ہے کہ کامیابی صرف ترازو کے عدد سے ناپی جاتی ہے۔ میں نے اپنے ابتدائی دور میں یہی غلطی کی۔ میں نے صرف وزن گھٹانے پر توجہ دی اور کھانا اس قدر کم کر دیا کہ جسم کمزور ہو گیا۔ وزن تو کم ہوا مگر میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہانپتا تھا اور کسی بھاری چیز کو اٹھانے سے کتراتا تھا۔

پھر میں نے اپنی توجہ تبدیل کی اور طاقت بنانے پر مرکوز ہو گیا۔ میں نے پش اپ، اسکواٹ، پلانک اور پل اپس جیسی آسان مگر موثر ورزشیں شروع کیں۔ تین ماہ میں میرا وزن صرف دو کلوگرام کم ہوا مگر میں دس کلوگرام زیادہ وزن اٹھا سکتا تھا اور میرا لباس پہلے سے بہتر فٹ ہو رہا تھا کیونکہ پٹھوں نے جگہ لے لی تھی۔

طاقت بنانا آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو بہتر بناتا ہے۔ آپ کی کرنسی درست ہوتی ہے جس سے کمر اور گردن کا درد کم ہوتا ہے۔ آپ کے جوڑ مضبوط ہوتے ہیں جو بڑھاپے میں چوٹوں سے بچاتے ہیں۔ آپ کی توانائی کی سطح بڑھ جاتی ہے کیونکہ پٹھے زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں۔ سب سے اہم، آپ کا اعتماد بڑھتا ہے جب آپ ایسے کام کر سکتے ہیں جو چھ ماہ پہلے ناممکن تھے۔

وزن کم کرنا ایک مقصد ہے مگر طاقت بنانا ایک طرز زندگی ہے جو آپ کو عمر بھر فائدہ دیتا ہے۔

نیند کی اہمیت کو کم نہ سمجھیں

میں نے اپنی زندگی کے پہلے پانچ سال فٹنس کے سفر میں نیند کو نظر انداز کیا۔ میں سوچتا تھا کہ اگر میں کم سوؤں گا تو زیادہ وقت ورزش اور کام کے لیے ملے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میری کارکردگی کم ہو گئی، بھوک بے قابو ہو گئی اور موڈ خراب رہنے لگا۔ جب میں نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ نیند کے دوران ہی آپ کے پٹھے بنتے ہیں اور جسم مرمت کرتا ہے۔

نیند کی کمی سے آپ کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم چربی جمع کرنے لگتا ہے۔ غریلین نامی ہارمون بڑھ جاتا ہے جو بھوک بڑھاتا ہے اور لیپٹین کم ہو جاتا ہے جو آپ کو سیر ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یعنی آپ زیادہ کھاتے ہیں مگر سیر نہیں ہوتے۔ میں نے جب اپنی نیند سات گھنٹے سے بڑھا کر آٹھ گھنٹے کر دی تو دو ہفتوں میں فرق محسوس کیا۔

اچھی نیند کے لیے آپ کو ایک معمول بنانا ہوگا۔ ہر رات ایک ہی وقت پر بستر پر جائیں اور ایک ہی وقت پر اٹھیں حتی کہ چھٹی کے دن بھی۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور لیپ ٹاپ بند کر دیں کیونکہ نیلی روشنی میلاٹونین ہارمون کو روکتی ہے۔ اپنے کمرے کو تاریک اور ٹھنڈا رکھیں۔ یہ سادہ اقدامات آپ کی نیند کے معیار کو دوگنا کر سکتے ہیں۔

تناؤ کا انتظام کرنا ورزش جتنا اہم ہے

جب میں نے پہلی بار سنجیدگی سے فٹنس پر کام شروع کیا تو میں نے سوچا کہ صرف ورزش اور غذا کافی ہے۔ مگر تین ماہ بعد بھی میرا وزن نہیں کم ہوا حالانکہ میں سب کچھ ٹھیک کر رہا تھا۔ پھر مجھے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے تناؤ کی سطح بہت بلند ہے اور کورٹیسول ہارمون میرے پیٹ کے گرد چربی جمع کر رہا ہے۔ یہ سن کر میں نے اپنی زندگی میں تناؤ کم کرنے کی تکنیکیں شامل کیں۔

آج کل کی مصروف زندگی میں تناؤ ایک حقیقت ہے۔ دفتر کا کام، گھر کی ذمہ داریاں، مالی دباؤ، سب مل کر جسم پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ مگر جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپ تناؤ کا اظہار کیسے کرتے ہیں۔ میں نے صبح دس منٹ کی مراقبہ شروع کی۔ شروع میں مشکل تھا کیونکہ میرا ذہن بھٹکتا تھا مگر دو ہفتوں بعد میں محسوس کر سکتا تھا کہ میری سوچیں زیادہ منظم ہیں اور میں چھوٹی باتوں پر کم غصہ ہوتا ہوں۔

مراقبہ کے علاوہ گہری سانس لینے کی مشق بھی بہت کارگر ہے۔ جب آپ کو تناؤ محسوس ہو تو پانچ منٹ کے لیے صرف اپنی سانسوں پر توجہ دیں۔ ناک سے گہری سانس لیں، پانچ تک گنیں، پھر منہ سے آہستہ سانس چھوڑیں۔ یہ آپ کے اعصابی نظام کو پرسکون کرتا ہے اور آپ کے دل کی دھڑکن کم ہو جاتی ہے۔ یہ ایسا آلہ ہے جو ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے اور کہیں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

ایک اور طریقہ جو میں نے موثر پایا وہ فطرت میں وقت گزارنا ہے۔ ہفتے میں کم از کم ایک بار پارک یا کسی قدرتی مقام پر جائیں۔ درختوں کے درمیان چلنا، پرندوں کی آوازیں سننا اور تازہ ہوا میں سانس لینا آپ کے ذہن کو صاف کر دیتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قدرت میں صرف بیس منٹ گزارنا آپ کے تناؤ کے ہارمونز کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔

ترقی کو ماپنا ترازو سے بالاتر ہے

جب لوگ فٹنس شروع کرتے ہیں تو وہ ہر روز ترازو پر چڑھتے ہیں اور جب عدد نہیں بدلتا تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ ترازو آپ کو صرف آپ کا کل وزن بتاتا ہے مگر یہ نہیں بتاتا کہ کتنا پٹھا ہے، کتنی چربی ہے یا کتنا پانی ہے۔ میں نے ایک بار دو ہفتے تک کوئی وزن کم نہیں کیا مگر میری کمر کی لکیر ایک انچ کم ہو گئی تھی کیونکہ چربی کم ہو رہی تھی اور پٹھا بن رہا تھا۔

ترقی کو ماپنے کے بہتر طریقے یہ ہیں کہ آپ اپنی کارکردگی دیکھیں۔ کیا آپ پہلے سے زیادہ پش اپ کر سکتے ہیں؟ کیا آپ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کم ہانپتے ہیں؟ کیا آپ کا لباس بہتر فٹ ہو رہا ہے؟ کیا آپ کی نیند بہتر ہے؟ کیا آپ کو دوپہر کو کم تھکن ہوتی ہے؟ یہ سب اصل کامیابیاں ہیں۔ میں نے ایک ڈائری شروع کی جس میں میں نے ہر ہفتے یہ چیزیں لکھیں اور جب میں نے تین ماہ بعد اسے دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے کتنی ترقی کی ہے۔

ایک اور عملی طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی تصاویر لیں۔ شروع میں ایک تصویر لیں اور پھر ہر ماہ ایک۔ یقین کریں جب آپ چھ ماہ بعد پہلی اور آخری تصویر کا موازنہ کریں گے تو فرق واضح نظر آئے گا حالانکہ روزانہ آئینہ دیکھتے ہوئے آپ کو محسوس نہیں ہوگا۔ یہ اس لیے ہے کہ تبدیلی آہستہ آہستہ ہوتی ہے اور ہمارا ذہن اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔

میں یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اپنے احساسات کو بھی ریکارڈ کریں۔ کیا آپ خوش ہیں؟ کیا آپ زیادہ پر اعتماد محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ روزمرہ کام آسانی سے کر پا رہے ہیں؟ یہ نفسیاتی تبدیلیاں اکثر جسمانی تبدیلیوں سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ صحت صرف جسم کے بارے میں نہیں بلکہ ذہن اور جذبات کے بارے میں بھی ہے۔

مستقل مزاجی کامل ہونے سے بہتر ہے

سب سے بڑی سبق جو میں نے سیکھا وہ یہ ہے کہ آپ کو ہر روز کامل ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو صرف مستقل مزاج ہونا ہے۔ میں نے شروع میں سوچا کہ اگر میں نے ایک دن برگر کھا لیا یا ورزش چھوڑ دی تو سب برباد ہو گیا۔ اس سوچ نے مجھے کئی بار ہار ماننے پر مجبور کیا۔ پھر میں نے اپنا نقطہ نظر بدل دیا اور سمجھا کہ ایک برا دن ایک برے ہفتے میں تبدیل ہونا ضروری نہیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ کسی شادی میں گئے اور زیادہ کھا لیا تو اگلے دن واپس اپنی عادات پر آ جائیں۔ سزا کے طور پر اگلے دن بھوکے نہ رہیں بلکہ معمول کے مطابق کھائیں اور ورزش کریں۔ جسم ایک دن کی زیادتی سے موٹا نہیں ہوتا جیسے ایک دن کی صحت مند غذا سے پتلا نہیں ہوتا۔ اصل تبدیلی ہفتوں اور مہینوں کی مستقل مزاج عادات سے آتی ہے۔

میں نے اپنے لیے ایک اصول بنایا ہے کہ اگر میں نے ایک دن ورزش چھوڑ دی تو میں اگلے دن دس منٹ ہی سہی مگر ضرور کروں گا۔ یہ اصول مجھے پٹری پر واپس لاتا ہے۔ کیونکہ اصل خطرہ یہ نہیں ہے کہ آپ ایک دن چھوڑیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک دن دو دنوں میں اور پھر ایک ہفتے میں بدل جائے۔ مستقل مزاجی یہ ہے کہ آپ ہمیشہ واپس آ جائیں۔

آپ کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ زندگی میں مشکل وقت آتے ہیں۔ بیماری، کام کا دباؤ، خاندانی مسائل۔ ایسے وقتوں میں آپ سے وہی کارکردگی کی توقع نہ رکھیں جو آپ معمول کے دنوں میں کرتے ہیں۔ بس اتنا کریں کہ مکمل طور پر نہ رکیں۔ اگر آدھ گھنٹے کی ورزش نہیں کر سکتے تو پانچ منٹ کی واک کر لیں۔ اگر مکمل کھانا پکا نہیں سکتے تو کم از کم پھل اور دہی کھا لیں۔ چھوٹے اقدامات بہتر ہیں کوئی اقدام نہ ہونے سے۔

جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں تھی کہ میں نے دس کلوگرام وزن کم کیا یا مجھ سے پچاس پش اپ ہو جاتے ہیں۔ میری اصل کامیابی یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا طرز زندگی بنایا جو میں باقی عمر جاری رکھ سکتا ہوں۔ یہ کوئی عارضی رجیم نہیں بلکہ ایک مستقل تبدیلی ہے جو میری شناخت کا حصہ بن گئی ہے۔

Leave a Comment