صحت مند غذا میں اینٹی آکسیڈنٹس کا کردار اور اہمیت

جب آپ کسی بھی صحت سے متعلق مضمون یا پیکج شدہ غذا پر نظر ڈالتے ہیں تو اینٹی آکسیڈنٹس کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن کیا آپ واقعی جانتے ہیں کہ یہ مرکبات آپ کے جسم کے اندر کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ زیادہ تر لوگ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی طرح اچھے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ اینٹی آکسیڈنٹس ہمارے خلیات کو روزانہ ہونے والے ایک خاموش حملے سے بچاتے ہیں جسے فری ریڈیکلز کہا جاتا ہے۔ یہ غیر مستحکم مالیکیول ہمارے جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں اور بیرونی عوامل جیسے آلودگی، سگریٹ کا دھواں اور شعاعیں بھی انہیں بڑھاتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ ان فری ریڈیکلز کو غیر مؤثر بنا دیتے ہیں اور ہمارے ڈی این اے، پروٹین اور چکنائی والے خلیاتی جھلیوں کو نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں۔

فری ریڈیکلز کی حقیقت جو کوئی نہیں بتاتا

فری ریڈیکلز کو اکثر صرف نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے جسم کے دفاعی نظام کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ جب آپ کا مدافعتی نظام کسی بیکٹیریا یا وائرس سے لڑتا ہے تو وہ جان بوجھ کر فری ریڈیکلز پیدا کرتا ہے تاکہ حملہ آور جرثوموں کو تباہ کر سکے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ان کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جسم میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار کم ہوتی ہے۔ اس عدم توازن کو آکسیڈیٹیو اسٹریس کہتے ہیں اور یہی وہ حالت ہے جو دائمی بیماریوں کی بنیاد بنتی ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں آکسیڈیٹیو اسٹریس بڑھانے والے عوامل میں تلی ہوئی غذائیں، پروسیسڈ گوشت، بہت زیادہ شوگر کا استعمال، ذہنی دباؤ، کم نیند اور شدید ورزش شامل ہیں۔ جی ہاں، بہت زیادہ اور غیر معتدل ورزش بھی فری ریڈیکلز بڑھا سکتی ہے، حالانکہ معتدل ورزش اینٹی آکسیڈنٹ انزائمز کی پیداوار کو تیز کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ صرف جم میں گھنٹوں پسینہ بہاتے ہیں لیکن اپنی غذا پر توجہ نہیں دیتے، وہ اکثر بیمار پڑتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کی خوراک میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس کی کمی ہوتی ہے، ان میں دل کی بیماریوں، ذیابیطس ٹائپ ٹو، الزائمر اور کچھ قسم کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ سپلیمنٹس کی شکل میں اعلیٰ مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس لینا فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ قدرتی غذاؤں میں اینٹی آکسیڈنٹس دوسرے غذائی اجزاء کے ساتھ ایک متوازن مجموعہ میں موجود ہوتے ہیں جو جسم کے لیے بہترین ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس کی اہم اقسام اور ان کے منفرد فوائد

تمام اینٹی آکسیڈنٹس یکساں نہیں ہوتے۔ ہر قسم کا اینٹی آکسیڈنٹ جسم کے مخصوص حصوں میں کام کرتا ہے اور مختلف قسم کے فری ریڈیکلز سے لڑتا ہے۔ وٹامن سی پانی میں گھلنشیل ہے اور خون اور خلیات کے اندرونی حصوں میں کام کرتا ہے، جبکہ وٹامن ای چکنائی میں گھلنشیل ہے اور خلیاتی جھلیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ دونوں مل کر ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں جہاں وٹامن سی استعمال شدہ وٹامن ای کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد کرتا ہے۔

بیٹا کیروٹین اور دیگر کیروٹینائیڈز آنکھوں کی صحت کے لیے خاص طور پر اہم ہیں۔ لیوٹین اور زیکسینتھین نامی دو کیروٹینائیڈز ریٹینا میں جمع ہوتے ہیں اور نیلی روشنی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں سے آنکھوں کو بچاتے ہیں۔ جو لوگ روزانہ اسکرین کے سامنے گھنٹوں گزارتے ہیں، انہیں اپنی غذا میں پالک، کیلے کے پتے اور پیلی شملہ مرچ جیسی غذائیں ضرور شامل کرنی چاہئیں۔

پولی فینولز ایک بہت بڑا خاندان ہے جس میں ہزاروں مختلف مرکبات شامل ہیں۔ ان میں فلیوونائیڈز سب سے زیادہ مطالعہ شدہ ہیں اور یہ پھلوں، سبزیوں، چائے اور کوکو میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام نہیں کرتے بلکہ سوزش کو کم کرنے، خون کی نالیوں کو لچکدار بنانے اور دماغی افعال کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سبز چائے میں موجود ای جی سی جی نامی فلیوونائیڈ میٹابولزم کو تیز کرتا ہے اور جگر کی چکنائی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

سیلینیم اور گلوٹاتھائیون کی خاموش طاقت

گلوٹاتھائیون کو اکثر ماسٹر اینٹی آکسیڈنٹ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دوسرے اینٹی آکسیڈنٹس کو ری سائیکل کرنے اور دوبارہ فعال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہمارے جسم میں قدرتی طور پر تین امینو ایسڈز سے بنتا ہے، لیکن عمر بڑھنے، بیماری اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس کی سطح گر جاتی ہے۔ بدقسمتی سے، گلوٹاتھائیون سپلیمنٹس کھانا زیادہ مؤثر نہیں ہوتا کیونکہ یہ ہاضمے کے دوران ٹوٹ جاتا ہے۔

اس کی بجائے، آپ اپنے جسم میں گلوٹاتھائیون کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں بعض غذاؤں کے ذریعے۔ سلفر والی سبزیاں جیسے لہسن، پیاز، بروکولی اور گوبھی اس کی تیاری میں مدد کرتی ہیں۔ سیلینیم ایک معدنیات ہے جو گلوٹاتھائیون پیراکسیڈیز نامی انزائم کا لازمی جزو ہے۔ یہ انزائم ہائیڈروجن پیراکسائیڈ جیسے نقصان دہ مرکبات کو بے ضرر پانی میں تبدیل کرتا ہے۔ برازیل نٹس سیلینیم کا بہترین ذریعہ ہیں، صرف دو سے تین گری روزانہ کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔

رنگین سبزیوں اور پھلوں کا سائنسی راز

پودوں کے رنگ محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہیں بلکہ ہر رنگ ایک مخصوص قسم کے اینٹی آکسیڈنٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ سرخ اور گلابی رنگ لائیکوپین کی موجودگی بتاتے ہیں جو ٹماٹر، تربوز اور امرود میں پایا جاتا ہے۔ لائیکوپین پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں خاص طور پر مؤثر دکھایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پکے ہوئے ٹماٹر سے لائیکوپین زیادہ آسانی سے جذب ہوتا ہے کیونکہ حرارت اس کی بایو دستیابی کو بڑھا دیتی ہے۔

نارنجی اور پیلے رنگ کے پھل اور سبزیاں بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں وٹامن اے میں تبدیل ہوتا ہے۔ گاجر، شکر قندی، کدو اور آم اس زمرے میں آتے ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیوں میں کلوروفل کے ساتھ ساتھ لیوٹین اور زیکسینتھین بھی ہوتے ہیں۔ جامنی اور نیلے پھل جیسے بلیو بیری، بینگن اور سیاہ انگور اینتھوسیانین سے بھرپور ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لیے خاص فائدہ مند ہیں۔

یہاں ایک اہم اصول یہ ہے کہ رنگوں کا تنوع ضروری ہے۔ اگر آپ صرف ایک یا دو قسم کی سبزیاں کھا رہے ہیں تو آپ کو اینٹی آکسیڈنٹس کا مکمل سپیکٹرم نہیں مل رہا۔ ہر ہفتے کم از کم پانچ مختلف رنگوں کی سبزیاں اور پھل کھانے کی کوشش کریں۔ اس سے نہ صرف غذائی تنوع بڑھتا ہے بلکہ کھانے کا تجربہ بھی بہتر ہوتا ہے۔

وہ غذائیں جو اینٹی آکسیڈنٹس کے پاور ہاؤس ہیں

جب اینٹی آکسیڈنٹ کثافت کی بات آتی ہے تو کچھ غذائیں واقعی نمایاں ہیں۔ سپر فوڈ کی اصطلاح بہت استعمال ہوتی ہے لیکن سائنسی طور پر کچھ غذاؤں میں اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار ناقابل یقین حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ او آر اے سی ویلیو ایک پیمائش ہے جو کسی غذا کی اینٹی آکسیڈنٹ صلاحیت کو ناپتی ہے۔ اس پیمانے پر سرفہرست غذاؤں میں لونگ، دار چینی، اوریگانو اور ہلدی جیسے مصالحے شامل ہیں۔

لونگ میں یوجینول نامی مرکب ہوتا ہے جس کی اینٹی آکسیڈنٹ طاقت وٹامن ای سے کئی گنا زیادہ ہے۔ صرف آدھا چمچ پسی ہوئی لونگ آپ کی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنے سے نمایاں فرق پڑ سکتا ہے۔ ہلدی میں موجود کرکومین نہ صرف ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے بلکہ یہ سوزش کے خلاف بھی لڑتا ہے۔ تاہم، کرکومین خراب جذب ہوتا ہے اس لیے اسے کالی مرچ کے ساتھ کھانا ضروری ہے کیونکہ پائپرین نامی مرکب اس کی جذب کی شرح کو دو ہزار فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

  • کوکو اور خالص ڈارک چاکلیٹ جس میں ستر فیصد یا اس سے زیادہ کوکو ہو – فلیوونولز سے بھرپور جو دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں اور بلڈ پریشر کو کم کرتے ہیں
  • اخروٹ اور پیکن – میلاٹونن اور وٹامن ای کا بہترین ذریعہ جو دماغی عمر بڑھنے کو سست کرتے ہیں
  • ارٹیچوک – کلوروجینک ایسڈ اور سائنارن سے بھرپور جو جگر کی صفائی میں مدد کرتے ہیں
  • کڈنی بینز اور سیاہ بینز – اینتھوسیانین اور فائبر دونوں فراہم کرتے ہیں جو آنتوں کی صحت کو فروغ دیتے ہیں
  • سرخ گوبھی – بینگن سے چھ سے آٹھ گنا زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس رکھتی ہے اور بہت سستی ہے
  • سمندری سوار اور مچھلی – ایسٹازینتھین نامی نادر اینٹی آکسیڈنٹ جو دماغی خلیوں اور ریٹینا میں داخل ہو سکتا ہے

بیریز کے خاندان میں بلیو بیری، اسٹرابیری، بلیک بیری اور رسبری شامل ہیں اور یہ سب کے سب اینٹی آکسیڈنٹ سے لبریز ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگلی بلیو بیری میں کاشت شدہ بلیو بیری سے دگنے اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں کیونکہ وہ قدرتی طور پر سخت حالات میں پروان چڑھتے ہیں اور دفاع کے لیے زیادہ حفاظتی مرکبات بناتے ہیں۔ منجمد بیریز تازہ سے کمتر نہیں ہوتیں بلکہ کبھی کبھار زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں کیونکہ انہیں چوٹی کی پختگی پر توڑا جاتا ہے۔

پکانے کے طریقے جو اینٹی آکسیڈنٹس کو بچاتے یا تباہ کرتے ہیں

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کچی سبزیاں ہمیشہ پکی ہوئی سبزیوں سے بہتر ہوتی ہیں۔ حقیقت میں، کچھ اینٹی آکسیڈنٹس حرارت سے بڑھ جاتے ہیں جبکہ دوسرے کم ہو جاتے ہیں۔ ٹماٹر کو پکانے سے لائیکوپین کی مقدار تین سے چار گنا بڑھ جاتی ہے۔ گاجر کو ہلکا ابال کر پکانے سے بیٹا کیروٹین کی دستیابی بڑھ جاتی ہے کیونکہ حرارت سخت خلیاتی دیواروں کو توڑ دیتی ہے۔

دوسری طرف، وٹامن سی اور کچھ بی وٹامنز حرارت اور پانی میں حل ہونے والے ہیں، اس لیے ابالنا سب سے خراب طریقہ ہے۔ اگر آپ کو سبزیاں ابالنی ہیں تو کم سے کم پانی استعمال کریں اور اس پانی کو سوپ یا گریوی میں استعمال کریں تاکہ غذائی اجزاء ضائع نہ ہوں۔ بھاپ پر پکانا بہتر ہے کیونکہ غذا براہ راست پانی میں نہیں ہوتی۔ تیز آنچ پر مختصر وقت کے لیے بھوننا بھی اچھا طریقہ ہے کیونکہ یہ سطح کو سیل کر دیتا ہے۔

مائیکرو ویو میں پکانا درحقیقت غذائیت کو برقرار رکھنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے کیونکہ پکانے کا وقت مختصر ہوتا ہے اور کم پانی درکار ہوتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بروکولی کو مائیکرو ویو میں بہت کم پانی کے ساتھ پکانے سے اس کے فلیوونائیڈز اور گلوکوسینولیٹس تقریباً مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں۔ تلنا سب سے خراب طریقہ ہے، خاص طور پر جب تیل کو دوبارہ استعمال کیا جائے۔ بار بار گرم کیا گیا تیل نہ صرف اینٹی آکسیڈنٹس کو تباہ کرتا ہے بلکہ خود نقصان دہ مرکبات پیدا کرتا ہے۔

غذا میں تنوع اور رنگوں کی کثرت سے ہی آپ کو اینٹی آکسیڈنٹس کا وہ مکمل سپیکٹرم ملے گا جو جسم کو مکمل تحفظ دینے کے لیے ضروری ہے

مشروبات جو خاموشی سے اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتے ہیں

جب ہم غذا کی بات کرتے ہیں تو اکثر ٹھوس کھانوں پر توجہ دیتے ہیں لیکن مشروبات بھی اینٹی آکسیڈنٹس کا اہم ذریعہ ہیں۔ سبز چائے کو اکثر صحت مند مشروب کہا جاتا ہے اور یہ بجا طور پر ہے۔ ایک کپ سبز چائے میں کیٹیکنز نامی طاقتور فلیوونائیڈز ہوتے ہیں جن میں ای جی سی جی سب سے زیادہ فعال ہے۔ یہ مرکب میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، دماغ کے نیورو ٹرانسمیٹرز کو بچاتا ہے اور کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔

کافی بھی اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہے اور مغربی ممالک میں یہ اکثر لوگوں کا سب سے بڑا اینٹی آکسیڈنٹ ذریعہ بنتا ہے۔ کافی میں کلوروجینک ایسڈ ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کافی میں شکر اور کریم ڈالنے سے اس کے فوائد ختم ہو جاتے ہیں۔ سیاہ کافی یا صرف تھوڑا سا دودھ شامل کرکے پینا بہتر ہے۔ بہت زیادہ کافی بھی مسئلہ ہے، دن میں تین سے چار کپ کافی ہے۔

انار کا رس شاید سب سے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ مشروب ہے۔ اس میں پیونیکیلیجنز نامی منفرد مرکبات ہوتے ہیں جو سبز چائے سے تین گنا زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ طاقت رکھتے ہیں۔ انار کا رس دل کی شریانوں میں جمع ہونے والے پلاک کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے۔ تاہم، یہ کیلوریز اور شکر میں زیادہ ہوتا ہے اس لیے ایک دن میں ایک چھوٹا گلاس کافی ہے۔

سرخ شراب کو صحت کے فوائد کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر ریسویراٹرول نامی مرکب کی وجہ سے جو انگور کی کھال میں پایا جاتا ہے۔ یہ دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور عمر بڑھنے سے منسلک سوزش کو کم کرتا ہے۔ لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ الکحل کے نقصانات زیادہ مقدار میں فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اعتدال ضروری ہے اور جو لوگ شراب نہیں پیتے، انہیں صحت کے لیے پینا شروع نہیں کرنا چاہیے۔ انگور کا تازہ رس یا خود انگور کھانا بہتر متبادل ہے۔

وہ غلط فہمیاں جو آپ کو گمراہ کر رہی ہیں

اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس کی صنعت اربوں ڈالر کی ہے اور مارکیٹنگ نے کچھ ایسی غلط فہمیاں پیدا کر دی ہیں جو سائنسی حقیقت سے میل نہیں کھاتیں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس ہمیشہ بہتر ہوتے ہیں۔ حقیقت میں، بہت زیادہ مقدار میں تنہائی میں لیے گئے اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، تمباکو نوشی کرنے والوں میں اعلیٰ خوراک کے بیٹا کیروٹین سپلیمنٹس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ تمام قدرتی چیزیں محفوظ ہیں۔ قدرتی ہونا خود بخود حفاظت کی ضمانت نہیں دیتا۔ کچھ پودوں میں موجود مرکبات دواؤں کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔ سینٹ جونز ورٹ جو ڈپریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے، کئی دواؤں کی تاثیر کو کم کر دیتا ہے بشمول مانع حمل ادویات اور خون کو پتلا کرنے والی دوائیں۔ گریپ فروٹ کا رس بھی کئی ادویات کے میٹابولزم میں مداخلت کرتا ہے۔

تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ اینٹی آکسیڈنٹس تمام بیماریوں کو روک سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں، لیکن یہ کوئی جادوئی علاج نہیں ہیں۔ صحت ایک پیکج ہے جس میں متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، کافی نیند، ذہنی دباؤ کا انتظام اور سماجی تعلقات شامل ہیں۔ صرف اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس کھا کر آپ برگر اور فرائز کی غذا کے اثرات کو ختم نہیں کر سکتے۔

چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ مہنگے سپر فوڈز ضروری ہیں۔ گوجی بیری، اکائی بیری اور ماکا پاؤڈر جیسی غذائیں مارکیٹنگ کی بدولت مشہور ہوئی ہیں لیکن مقامی طور پر دستیاب سستی غذائیں جیسے پالک، مٹر، گاجر اور سنترے میں بھی اتنے ہی یا زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس ہیں۔ صحت کے لیے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ تازگی اور تنوع مہنگی درآمدی غذاؤں سے زیادہ اہم ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس کو زیادہ سے زیادہ کیسے حاصل کریں

اب جب آپ سمجھ گئے ہیں کہ اینٹی آکسیڈنٹس کیا ہیں اور کہاں ملتے ہیں، تو عملی سوال یہ ہے کہ انہیں اپنی روزمرہ غذا میں کیسے شامل کریں۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر کھانے میں کم از کم دو مختلف رنگوں کی سبزیاں یا پھل شامل کریں۔ ناشتے میں بیریز کے ساتھ دہی، دوپہر کے کھانے میں پالک اور ٹماٹر کا سلاد، رات کے کھانے میں بھنی ہوئی رنگین سبزیاں۔ یہ سادہ اصول آپ کی اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔

مصالحے استعمال کرنے سے نہ گھبرائیں۔ ہلدی، دار چینی، لہسن، ادرک اور زیرہ نہ صرف ذائقہ بڑھاتے ہیں بلکہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہر روز کھانا پکاتے وقت کم از کم ایک مصالحہ شامل کرنے کی عادت بنائیں۔ چائے یا کافی کو صرف عادت کے طور پر نہیں بلکہ شعوری طور پر اینٹی آکسیڈنٹ کے ذریعے کے طور پر لیں۔ سبز چائے کو دن میں دو سے تین بار پینا بہترین ہے۔

گری دار میوے اور بیج روزانہ کی غذا کا حصہ ہونے چاہئیں۔ ایک مٹھی بھر اخروٹ یا بادام ناشتے کے طور پر کھانا یا سلاد میں شامل کرنا آسان ہے۔ سردیوں میں جب تازہ بیریز مہنگی ہوں تو منجمد بیریز استعمال کریں اور انہیں اسموتھی میں ڈالیں۔ یہ نہ صرف سستا ہے بلکہ غذائیت میں بھی برابر ہے۔ زیتون کا تیل اور خالص مکھن کی جگہ استعمال کریں کیونکہ یہ وٹامن ای اور پولی فینولز سے بھرپور ہے۔

کھانا پکانے کے پانی کو ضائع نہ کریں۔ سبزیوں کو ابالنے یا بھاپ دینے کے بعد بچنے والے پانی کو سوپ، دال یا چاول پکانے میں استعمال کریں۔ اس میں پانی میں گھلنشیل وٹامنز اور معدنیات ہوتے ہیں۔ سلاد کو کھانے سے تھوڑی دیر پہلے کاٹیں، پہلے سے نہیں، کیونکہ کٹی ہوئی سبزیوں میں وٹامن سی تیزی سے ضائع ہوتا ہے۔ چھلکوں کو جہاں ممکن ہو کھائیں کیونکہ زیادہ تر اینٹی آکسیڈنٹس چھلکے میں یا اس کے بالکل نیچے ہوتے ہیں۔

اگر آپ سپلیمنٹس لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خاص طور پر اگر آپ کوئی دوائیں لے رہے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ملٹی وٹامن کی بجائے مخصوص کمی کو پورا کریں۔ خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ میں کس چیز کی کمی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو وٹامن ڈی اور بی ٹویلو کی کمی ہوتی ہے جو سپلیمنٹس سے پوری کی جا سکتی ہے، لیکن باقی سب کچھ غذا سے حاصل کرنا بہتر ہے۔

روزانہ کی غذا میں چھوٹے چھوٹے تبدیلیاں طویل مدت میں بڑا فرق ڈالتی ہیں۔ سفید چاول کی جگہ بھورے چاول یا کوئنوا، سفید آٹے کی جگہ سارے گندم کا آٹا، عام چائے کی جگہ سبز چائے، میٹھے مشروبات کی جگہ تازہ پھلوں کا رس۔ یہ تبدیلیاں مشکل نہیں ہیں بلکہ آپ کی اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار کو دگنا یا تگنا کر سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ صحت ایک سفر ہے نہ کہ منزل، اور ہر چھوٹا قدم اہمیت رکھتا ہے۔

اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ بھریں تو اسے ایک پیلٹ کی طرح سوچیں جس پر آپ قدرت کے رنگ بھر رہے ہیں۔ جتنے زیادہ اور زیادہ متنوع رنگ، اتنی ہی مضبوط صحت۔ اینٹی آکسیڈنٹس کوئی الگ سپلیمنٹ نہیں جو آپ کو خریدنا ہے، بلکہ قدرتی غذاؤں میں پہلے سے موجود ایک تحفہ ہیں جس تک آپ کی رسائی ہر دن ہے۔

Leave a Comment